پروفیسر طاہرالقادری صاحب سے متعلق استفسار کرنے
والے احباب و حضرات فقیر کی دو گذشتہ فیصلہ کُن قسطوں سے یقیناً
مطمئن ہوگئے ہوں گے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حضور اقدس سید عالم
نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام و اہل بیت
اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین یا سیدنا امام اعظم ابو
حنیفہ و سرکار غوث اعظم یا امام اہلسنت سیدنا اعلیٰ حضرت فاضل
بریلوی وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم کا نام لینا اور اُن کے فضائل و
کمالات بیان کرنا ہی کافی نہیں، جب تک ان سرکاروں کے معاندین و
حاسدین اور کھلم کھلہ توہین و تنقیض کرنے والے گستاخوں کا
بائیکاٹ اور ان کا ردّو ابطال نہ کیا جائے، زبانی کلامی تعریف و
توصیف کچھ معنی نہیں رکھتی۔ دیکھئیے تقویۃ الایمان تحذیر الناس
براہین قاطعہ حفظ الایمان وغیر ہم کتب کی گستاخانہ عبارات کی نوع
بنوع تاویلات کرنے والے مولوی منظور سنبھلی مدیر الفرقان لکھنؤ
بزعم خود کیسے پکے سچے عاشق بن کر لکھتے ہیں:"ہمارا ایمان ہے کہ
ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تمامی مخلوق میں سب سے
زیادہ بلند مرتبہ ہیں بلکہ دوسری مخلوقات کو آپ سے وہ نسبت بھی
نہیں جو ستاروں کو آفتاب سے ہے بلکہ ہمارے اکابر نے یہاں تک
تصریح کی ہیں کہ روضہ اقدس وہ پاک اور خوش نصیب مٹی جو جسد اطہر
سے ملی ہوئی ہے وہ بھی عرش اعظم سے افضل ہے"۔ ملخصاً (دلکش نظارہ
ص 50)
اسی قسم کی زبانی جمع خرچ کی باتیں قسمیں کھا
کھا کر "الشہاب الثاقب" کے دروغ گو مصنف نے بھی کی ہیں مگر توہین
آمیز گستاخانہ عبارات اور اہل توہین کے متعلق گونگے،کسی بھی قسم
کا حکم شرعی بتانے اور لگانے سے قاصر و عاجز رہے۔ یہی حال
پروفیسر صاحب اپنی بگڑی ساکھ اور کٹتی ناک کو بچانے اور سنیوں
میں خود کو سرخرو کرنے کے لئے" کیو ٹی وی" پر بزعم خود بڑے
محققانہ اور حکیمانہ انداز میں فضائل بیان کررہے ہیں۔ اگر وہ
اپنے ان بیانات اور خطبات میں سچے ہیں تو اُن کے وہ اقوال و
فرمودات جو ہم نے قسط اوّل اور دوم میں نقل کئے، اُن سے غیر
مشروط و غیر مبہم انداز میں رجوع کریں۔ اکابر علماء اہلسنت و
اعاظم مفتیان شریعت کے حسب تصریحات اپنی آوارگئ فکر کے حامل
جدید انداز فکر میں تبدیلی کریں اور امام اہلسنت مجدد دین و ملت
فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے مسلک حق کے حدود و قیود میں اپنی
منہاج کے مشن کو آگے بڑھائیں تو کسے کوئی شکایت ہی نہ ہو مگر اس
میں ان کی انانیت سدرا ہے۔ اُن کی افتاد طبع اور متکبرانہ انداز
فکر کے کماحقہ ادراک و مشاہدہ کے بعد ہی تو نبیرہ اعلیٰ حضرت
جانشین مفتئ اعظم علامہ مفتئ اختر رضا خاں قادری الازہری بریلوی
دامت برکاتھم العالیہ نے فرمایا تھاکہ۔ ۔ ۔ "پروفیسر صاحب سے
دریافت کرنا چاہئیے کہ جناب نے اہلسنت و جماعت(جسے بریلویت سے
تعبیر کرتے ہیں) کو فرقہ پرستوں میں کیوں گن لیا اور یہ لکھ ڈالا
کہ بریلویت،دیوبندیت،اہلحدیثی ت،شیعیت ایسے عنوانات سے وحشت ہونے
لگتی ہے؟ جناب کی اس عبارت کے تیوریہ کہتے ہیں کہ اہلسنت (بریلویت)
سمیت کوئی مسلک اسلامی نہیں بلکہ اسلام سے بیزار کرنے والا اور
وحشت کا موجب ہے۔ پھر مسلک اسلامی کیا ہے؟۔ پروفیسر صاحب اگر
حسامُ الحرمین کی تصدیق کریں تو خود ان کا یہ سارا کلام دریا برد
اور انکار کریں تو دلائل عدمی قبول ہیں ورنہ صریح ہٹ دھرمی اور
اُن کی لئی بھی وہی احکام جو دیابنہ وغیرہم کے لئے علماء نے
ارشاد فرمائے۔ ۔ ۔ " واللہ اعلم۔ اسی طرح کسی قسم کی زبانی جمع
خرچ کی باتیں مرکز اہلسنت دارلعلوم منظر اسلام بریلی شریف کے ایک
فتویٰ میں منظر اسلام کے علماء مفتیان عظام نے بہت ہی حقیقت
افروز انداز میں واضح فرمایا۔ صاف صاف لکھاکہ" جو سب کو اچھا
کہتا ہے وہ سب سے بُرا ہے" ملخصاً
اس سے بڑھ کر شارح بخاری علامہ مفتی محمد
شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ نے جامعہ ازرفیہ مبارک پور اعظم
یوپی کے متعدد مفتیان کرام کی تصدیقات کے ساتھ فقیر کے نام ایک
فتویٰ میں فرمایا "یہ شخص صلح کلی ہے اور صلح کلیت بے دینیت کی
جڑ ہے" الخ
غزالئ زماں علامہ احمد سعید کاظمی علیہ
الرحمۃ نے غیر مبہم انداز میں فرمایا" وہ (پروفیسر) یہ سمجھتا ہے
کہ میرے سوا نہ کسی کے پاس علم ہے اور نہ کسی کے پاس عقل ہے، اسے
عنقریب اپنی انانیت کا پتہ چل جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ وہ انانیت سے بھرا
ہوا ہے۔ انتہائی متکبر ہے وہ تو کہتا ہے کہ میں نہ صرف دیابنہ کے
پیچھے نماز پڑھتا ہوں بلکہ یہ حسن ظن رکھتا ہوں کہ اُن کا عقیدہ
کفریہ نہیں ہے۔ بہرحال وہ میرے پاس آیا تھا، میں نے اُس سے کہ
دیا کہ آئندہ میرے پاس مت آنا، مجھے تکلیف ہوتی ہے جب کسی کے
پاس آئے انسانیت کے ساتھ آئے لیکن وہ طاغوت بن کر آتا ہے اور
یہ سمجھتا ہے کہ میں کسی کی بات نہیں مانوں گا، ہر کوئی میری بات
مانے، میں سمجھتا ہوں یہ گمراہ ہے"۔
(ماہنامہ البر لاہور اگست 1995 ، مدیر اعلیٰ مفتی غلام سرور
قادری سابق صوبائی وزیر اوقاف پنجاب بحوالہ کیسٹ علامہ کاظمی
صاحب)علامہ صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی اطال اللہ عمرہ کی زیر ادارت
شائع ہونے والے ماہنامہ السعید ملتان میں مولانا شبیر پاشمی نے
لکھا ہےکہ" پروفیسر طاہرالقادری نے فتویٰ دیا ہے کہ عورت کی دیت
مرد کی دیت کے مساوی ہے،حضور غزالئ زماں رحمۃاللہ علیہ نے دلائل
و براہین سے مساوی دیت کا ردّ فرمایا ہے اور عورت کی نصف دیت کے
انکار کو گمراہی قرار دیا اور طاہرالقادری صاحب کی اپنے دارلعلوم
انوار العلوم ملتان کے سالانہ جلسہ میں آمد و شرکت پر پابندی
لگادی"۔
(ماہنامہ السعید ماہ فروری 1996)
خود غزالئ زماں علیہ الرحمۃ نے پروفیسر طاہرالقادری کی گمراہ کُن
تحقیق کہ عورت کی دیت مرد کے برابر ہے،پر محققانہ ردّوابطال
فرماتے ہوئے ایک مستقل کتاب"اسلام میں عورت کی دیت" تصنیف
فرمائی،جس میں منکر اجماع کو ضال و مفصل(گمراہ اور گمراہ کرنے
والا) قرار دیا ہے۔ اسی طرح صدرالشریعت علیہ الرحمۃ کے خلف اکبر
علامہ عبدالمصطفیٰ ازہری، شیخ الحدیث دارلعلوم امجدیہ کراچی اور
مفتئ اعظم کراچی، علامہ مفتئ وقار الدین قادری نے "وقارالفتاوٰی"
میں طاہر القادری کے افکار جدیدہ اور مرد کے برابر عورت کی دیت
کا ردّ بلیغ فرمایا ہے اور دارلعلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام
بریلی شریف کے سابق مہتمم اور جامعہ راشدیہ پیر جو گوٹھ سندہ کے
شیخ الحدیث علامہ مفتئ تقدس علی خان صاحب قادری رضوی رحمۃاللہ
علیہ نے بھی اپنے مقالہ جواب الجواب میں پروفیسر صاحب کا ردّ
بلیغ فرمایا ہے۔ اُمید ہے کہ فقیر کی یہ تحریر" کیو ٹی وی " سُن
کر استفسار کرنے والے علماء و احباب اہلسنّت کی تشفی کے لئے شافی
و کافی ثابت ہوگی۔ فقیر کے پیش کردہ حوالہ جات کو اگر کوئی اپنے
منفی جذبہ سے غلط اور خلاف واقع تصور کرتا ہے تو براہ راست جناب
پروفیسر صاحب سے جوابی لفافہ کے ساتھ وضاحت طلب کرے اور اُن کے
جواب کی فوٹو کاپی فقیر کو ارسال کرے اور اگر خود بدولت پروفیسر
صاحب تینوں قسطوں میں مذکور ان حوالہ جات سے اظہار برأت و
لاتعلقی کریں تو وہ اپنے ماہنامہ منہاج میں چھاپ دیں کہ میں حسامُ
الحرمین شریفین کے جملہ فتاویٰ تکفیر کی مکمل تائید و حمایت کرتا
ہوں اور عورت کی دیت مرد کے برابر تحقیق سے رجوع کرتا ہوں۔ تمام
فرقہ باطلہ کی اقتداء میں جواز نماز کے قول سے رجوع کرتا ہوں اور
آئندہ منہاج القرآن کا کسی بھی قسم کے بدمذہب مخالفین اہلسنت
کو رکن و عہدہ دار نہیں بنایا جائے گا"
وما علینا الا البلاغ المبین
شعیب قادری امین،
ماہنامہ رضائے مصطفیٰ ماہ ذوالحجہ بمطابق دسمبر